دل گیری
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - غمگینی، افسردگی، اداسی۔ "ہمت کر کے اسی دلگیری اور افسردگی میں ریل پر سوار ہوگیا۔" رجوع کریں: ( ١٩١١ء، روزنامچہ باتصویر، ٤ )
اشتقاق
فارسی زبان سے مرکب 'دِل گیر' کے بعد 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٣٥ء سے "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - غمگینی، افسردگی، اداسی۔ "ہمت کر کے اسی دلگیری اور افسردگی میں ریل پر سوار ہوگیا۔" رجوع کریں: ( ١٩١١ء، روزنامچہ باتصویر، ٤ )
جنس: مؤنث